Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بوڑھی عورت کے لیے عدت وفات کا حکم

Fatwa no.
3427-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جب عورت سن ایاس کو پہنچ جائے یعنی ایسی عمر کو پہنچ جائے جس میں اسے ماہواری آنا بند ہو جاتی ہے اور اس عمر میں شوہر کا انتقال ہو جائے تو اس پر عدت لازم ہوگی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

جو عورت عمر کے اس حصے تک پہنچ جائے کہ جس میں عورتوں کو عموما ماہواری بند ہو جایا کرتی ہے ، جسے سن ایاس کہتے ہیں ، ایسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے تو اس پر بھی عدت لازم ہوتی ہے کہ عدت کا تعلق ماہواری آنے سے نہیں ہے۔ وفات کی عدت کے متعلق تفصیل: اگر عورت حاملہ نہ ہو اور اس کا شوہر فوت ہو جائے تو اس پر چار ماہ دس دن کی عدت لازم ہوتی ہے ، خواہ عورت بڑی عمر کی ہو یا چھوٹی عمر کی، اور اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہوتی ہے ، اب بچے کی راکش خواہ نو ماہ کے بعد ہو یا اسی مہینے بلکہ اسی دن ہو جائے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.