Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم دکاندار سے کوئی چیز خریدنا
- Fatwa no.
- 3421-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ اگر محلے میں کوئی غیر مسلم دکاندار ہو تو کیا اس سے کوئی بھی چیز خریدنا جائز ہے؟
Answer (beginning)
اگر محلے، بازار ، مارکیٹ وغیرہ میں مرتد کے علاوہ کوئی غیر مسلم دکاندار ہو تو اس سے گوشت کے علاوہ دوسری جائز و حلال چیزیں خرید نا جائز ہے جب تک کہ ان میں کسی نا پاک یا حرام کی آمیزش کا شرعی ثبوت نہ ہو، نیز اس کا لحاظ بھی ضروری ہے کہ ایسی چیز نہ خریدے کہ اس سے کفریا گناہ پر مد دینا ہو یا اسلام و شریعت کا نقصان ہو۔ بلکہ بہتر تو یہ ہے که حتی الامکان مسلمان کی دوکان سے خریدا جائے کہ اس میں مسلمان کی مدد ہے۔ فتاوی رضویہ میں ہے "ہندو کے یہاں کا گوشت اور اس کی جس شے کی نسبت معلوم ہو کہ اس میں کوئی چیز حرام یا نجس ملی ہے وہ ضرور حرام ہے اور جس شے کا حال معلوم نہیں وہ جائز ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.