Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سیان کا مطلب اورسیان نام رکھنا کیسا

Fatwa no.
3417-WAT
Issued
20 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 23دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا بیٹے کا نام ”سیان رکھنا مناسب ہے، اس کے معنی کیا ہیں ؟

Answer (beginning)

”سیان “لفظ کا معنی ہے: " دانائی ، ہوشیاری۔ " اس معنی کے اعتبار سے ” یان “ نام رکھنا تو جائز ہے ، البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک نام یا صحابہ کرام کے مبارک نام یا دیگر نیک و صالح بزرگوں کے نام پر رکھیں کہ اس کی برکات بھی حاصل ہوں۔ الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت) فیروز اللغات میں ہے: ”سیان: دانائی، ہوشیاری۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.