Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آگ پر گرم کئے ہوئے پانی سے وضو وغسل کرنا
- Fatwa no.
- 3416-WAT
- Issued
- 20 جمادی الاخرى 1446ھ / 23دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) سردیوں میں چولہے یا آگ سے گرم کیے ہوئے پانی سے غسل کرنا یا وضو کرنا کیسا؟
Answer (beginning)
سردیوں میں چولہے یا آگ سے گرم کیے ہوئے پانی سے غسل کرنا یا وضو کرنا، بالکل جائز ہے، اس میں شرعا کوئی مضائقہ نہیں ہے ، ہاں ! اس کا لحاظ ضرور ہے کہ اتنا گرم نہ ہو کہ کسی فرض یا سنت کی تکمیل نہ کرنے دے، اگر کسی فرض کی تکمیل نہ ہو گی تو وضو و غسل نہ ہو گا اور اگر کسی سنت کی تکمیل نہ ہوئی تو مکر وہ ہو گا۔ صحیح بخاری میں ہے " وَتَوَضَّأَ عُمَرُ بالحَمِيم " ترجمہ: حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ گرم پانی سے وضو کرتے تھے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.