Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

غیر شرعی پارٹیز کیلئے جگہ کرائے پر دینا کیسا؟

Fatwa no.
3403-WAT
Issued
17 جمادی الاخری 1446ھ / 20دسمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) زید امریکہ میں رہتا ہے ، وہاں اس کے پاس ایک ہال ہے، جسے وہ مختلف لوگوں کو ان کی پارٹیز وغیرہ کے لیے کرائے پر دیتا ہے، اب بسا اوقات لوگ صرف جگہ کرائے پر لیتے ہیں، اس کے علاوہ سارا اہتمام کھانے پینے وغیرہ کاوہ خود کرتے ہیں اور ویٹر ز بھی وہ خود اپنی طرف سے لے کر آتے ہیں اور اس میں وہ لوگ وہاں شراب و غیرہ ناجائز مشروبات بھی استعمال کرتے ہیں تو شرعی رہنمائی فرمائی جائے کہ کیا زید ان لوگوں کو اپنی جگہ کرائے کے لیے دے سکتا ہے جبکہ حرام و ناجائز اشیاء ان کو مہیا کرنے میں زید کا کسی قسم کا تعاون وغیرہ نہیں ہوتا۔ ؟

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں پارٹیز کے لیے جگہ کرائے پر دے کر اپنا نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اجارے کا انعقاد جگہ کی منفعت پر ہو گا، اور اس جگہ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو گناہ کے لیے متعین ہو۔ اب اس کے بعد پارٹیز والوں کا شراب وغیرہ پینا، پلانا ان کا اپنا ذاتی فعل ہے۔ لہذا اس میں کرائے پر دینے والے کے سر کوئی الزام نہیں ہو گا، جبکہ وہ ان کے فعل پر تعاون کی نیت نہ رکھتا ہو ؟ کہ قرآن پاک میں واضح ارشاد موجود ہے کہ : " کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.