Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والد سے بات نہ کرنے کی قسم کھاکر توڑ دی تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
3402-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کسی نے یوں قسم کھائی تھی: " قرآن کی قسم ہے اب بات نہیں کروں گی پاپا سے "لیکن پھر تو بہ کے نفل پڑھ لیے تھے ، اللہ سے توبہ کی کہ آئندہ غلطی نہیں ہو گی اور پاپا سے بات کرنے لگی۔ تو کیا معافی ہو گئی اللہ کی طرف سے ؟

Answer (beginning)

بعض قسمیں ایسی ہوتی ہیں جن کا توڑ نا ضروری ہوتا ہے ، مثلا گناہ کرنے یا کوئی فرض یا واجب ادانہ کرنے کی قسم وغیرہ وغیرہ، یہ ایسی قسمیں ہیں کہ اگر کوئی ان میں سے کوئی قسم کھالے تو اس پر لازم ہو تا ہے کہ اس قسم کو توڑ دے، گناہ سے بچے اور جو کام اس پر فرض یا واجب ہے اس کو بجالائے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔ اور والد سے بات چیت مستقل طور پر ختم کر دینا، یہ قطع تعلقی ہے اور والد سے قطع تعلقی ناجائز و حرام ہے ،لہذاجب اس نے والد سے قطع تعلقی کی قسم کھائی تھی تو اس پر یہی لازم تھا کہ وہ اس سے تو بہ کر کے قسم توڑے یعنی والد سے بات چیت و غیر ہ کرے، اور قسم کا کفارہ ادا کر دے، پس جب اس نے توبہ کر کے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.