Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مقتدی کے لئے اقتداء کی نیت کرنے کا حکم

Fatwa no.
3394-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے کوئی شخص یہ نیت کرے کہ میں مثل عشاء کے چار فرض پڑھ رہا ہوں، تو کیا اس کے ساتھ یہ نیت کرنا بھی ضروری ہو گا کہ امام کے پیچھے پڑھ رہا ہوں۔

Answer (beginning)

مقتدی کے لیے امام کے اقتداء کی نیت بھی ضروری ہے، اگر اقتداء کی نیت نہ ہو، تو اقتداء درست نہیں ہو گی۔ البتہ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں تو اگر دل میں اقتداء کی نیت ہے جیسا کہ عام طور پر باجماعت نماز پڑھنے والوں کے دل میں ہوتاہی ہے ، تو یہ کافی ہے ، زبان سے الفاظ کہنا ضروری نہیں ، ہاں ! بہتر ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "ولو كان مقتديا ينوي ما ينوي المنفرد وينوي الاقتداء أيضا، لأن الاقتداء لا يجوز بدون النية. كذا في فتاوى قاضی خان ترجمہ : نماز پڑھنے والا اگر متقدمی ہو تو منفر دوالی نیت کے ساتھ ساتھ اقتداء کی نیت بھی کرے گا کیونکہ بغیر نیت اقتداء درست نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.