Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اگر عمرہ کے دوران حیض آجائے تو کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 3393-WAT
- Issued
- 15 جمادی الاخرى 1446ھ / 18 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر عمرہ کے دوران پیریڈ آجائیں یعنی خانہ کعبہ کے چکر لگاتے وقت، چوتھے چکر میں اگر پیریڈز آجائیں تو کیا کرنا ہے ؟ کیا عمرہ چھوڑ دینا ہے؟
Answer (beginning)
عورت کو اگر طواف کے دوران پیریڈ شروع ہو جائیں تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ طواف چھوڑ کر فوراً مسجد الحرام سے باہر آجائے اور احترام کی پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے پیریڈز کے ایام گزارے، پھر جب پیریڈز ختم ہو جائیں تو غسل کر کے طواف کرے۔ اور اس صورت میں چونکہ اکثر یعنی چار چکر مکمل ہونے سے پہلے ہی پیریڈز آ گئے تھے تو اب پاکی کے بعد اختیار ہے کہ نئے سرے سے طواف کرے یا جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے ( یعنی چوتھے چکر سے ) شروع کر دے ، ہاں ! افضل یہ ہے کہ نئے سرے سے شروع کرے۔ البحر الرائق میں ہے: " ان الحیض یتعلق به احکام:۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.