Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
فوت شدہ بیوی کا اس کے شوہر کی وراثت میں حصہ ہوگا یا نہیں؟
- Fatwa no.
- 3385-WAT
Question
(دعوت اسلامی) ایک آدمی کی ملکیت میں آٹھ ایکڑ زمین تھی، اس کی دو بیویاں تھیں، پہلی بیوی اس آدمی کے فوت ہونے سے 13 سال پہلے ہی دنیا سے چلی گئی، پہلی بیوی سے اس آدمی کے چار بچے ہیں، دوسری بیوی ابھی حیات ہے۔ کیا اس فوت ہونے والے شخص کا حصہ صرف دوسری کو ہی ملے گا؟ یا پہلی بیوی کا بھی اس کی وراثت میں سے حصہ بنتا ہے، اگر بنتا ہے تو کیا پہلی بیوی کے بچے اپنی والدہ کا حصہ طلب کر سکتے ہیں ؟ اگر کر سکتے ہیں تو کیا ان دونوں بیویوں میں سے ہر ایک کو آٹھواں حصہ ملے گا یا پھر آٹھواں حصہ دونوں بیویوں میں تقسیم ہو گا ؟
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں پہلی بیوی کے بچے اپنے والد کی وراثت سے اپنی فوت ہو جانے والی والدہ کا حصہ طلب نہیں کر سکتے ، کیونکہ پہلی بیوی کا اس شخص کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں بنتا، اس لیے کہ پہلی بیوی اس شخص کی زندگی میں ہی انتقال کر چکی تھی اور وارث بننے کے لیے مورث (جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے ،اس) کی موت تک وارث کا زندہ ہونا شرط ہوتا ہے ، اگر وارث اپنے مورث کی زندگی میں ہی انتقال کر جائے تو اس صورت میں اس کا وراثت میں حصہ نہیں ہو تا، لہذا پہلی بیوی کا شوہر کی وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا، بیوی کا جو حصہ اس کی وراثت میں سے بنے گاوہ صرف دوسری بیوی کو ہی ملے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.