Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عالم کا غیر عالم کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم

Fatwa no.
3383-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک عالم دین کا غیر عالم امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟ اور کیا عالم کی نماز ہو جائے گی ؟

Answer (beginning)

اگر عالم دین کسی لائق امامت غیر عالم شخص کے پیچھے نماز پڑھے اور وہ درست نماز پڑھائے تو اس کی نماز ہو جائے گی۔ البتہ ! جس جگہ کوئی امام مقررنہ ہو تو وہاں غیر عالم کی بہ نسبت عالم کا امام بنازیادہ بہتر ہے اور جہاں ایسا شخص امام مقرر ہو ، جس میں امامت کی شرائط پوری ہوں تو وہاں مقررہ امام ہی نماز پڑھائے گا۔ فتاوی رضویہ میں ہے ” امامت کیلئے صحیح الاسلام، صحیح الطہارت، صحیح القراءت، سنی صحیح العقیدہ غیر فاسق معلن درکار ہے ، جس میں ان باتوں سے کوئی بات کم ہو گی اسکے پیچھے نماز ہوگی ہی نہیں، مکروہ تحریمی ہو گی۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.