Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اپنا مال اپنے آپ پر حرام قرار دینے سے حرام نہیں ہوتا

Fatwa no.
3382-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اگر کوئی ایسا شخص جس کی رقم ہو ، وہ اپنی اس رقم کے متعلق کسی کو یہ کہہ دے کہ یہ رقم مجھ پر حرام ہے مگر دوسرا افرد بھی اس رقم کو لینے پر راضی نہ ہو تو کیا جس شخص کی یہ رقم ہے وہ یہ کہنے کے بعد کہ یہ رقم مجھ پر حرام ہے“ اپنی اس رقم کو خو درکھ سکتا ہے یا نہیں ؟

Answer (beginning)

مال کے مالک کے یہ جملہ " یہ رقم مجھ پر حرام ہے " کہنے سے وہ رقم حرام نہیں ہو جاتی البتہ یہ قسم ہو جائے گی ، لہذا اب اگر کہنے والا یہ رقم لے لے تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا۔ کنز الدقائق مع تبیین الحقائق میں ہے: ” (ومن حرم ملکه لم يحرم) أي من حرم على نفسه شيئا مما يملكه بأن يقول مالي علي حرام أو ثوبي أو جاريتي فلانة أوركوب هذه الدابة لم يصرمحرماعليه لذاته لأنه قلب المشروع وتغييره ولا قدرة له على ذلك بل الله تعالى هو المتصرف في ذلك بالتبديل قال - رحمه الله - (وإن استباحه كفر) أي إن أقدم على ما حرمه يلزمه كفارة اليمين لأنه ینعقد به یمینا ترجمہ : اور جو اپنی ملک کو حرام کر دے تو وہ حرام نہیں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.