Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
احرام کی حالت میں خوشبو والی چادر پہننا کیسا؟
- Fatwa no.
- 3381-WAT
- Issued
- 23 جمادی الاخرى 1446ھ / 26دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ احرام کی نیت کرنے سے پہلے احرام کی چادر پر خوشبو لگاسکتے ہیں یہ مسئلہ تو معلوم ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اگر کسی ضرورت کے وجہ سے احرام کی چادریں تبدیل کرنی ہوں اور ان چادروں پر خوشبو پہلے سے لگائی گئی ہو تو کیا وہ چادریں پہن سکتے ہیں ؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
بیان کر دہ صورت میں اگر دوسری چادروں پر خوشبو کا جرم (عین، جسم) لگا ہوا ہے تو انہیں استعمال کرنا درست نہیں بلکہ انہیں استعمال کرنے کے سبب کفارہ لازم ہو گا اور صرف خوشبو ہے ، جرم نہیں لگا ہو اتو بلا ضرورت استعمال کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے : ” استجمر ثوبه فعلق بثوبه فإن كان كثيرا فعليه دم، وإن كان قليلا فعليه صدقة لأنه منتفع بعينه، وإن لم يعلق به شيء منه فلا شيء عليه كذا في محيط السرخسي “ ترجمہ : اگر کپڑے کو (خوشبو کی ) دھونی دی اور خوشبو کا جرم کپڑے پر لگ گیا تو اگر زیادہ ہے تو دم لازم ہو گا اور کم ہے تو صدقہ لازم ہو گا کیونکہ وہ اس کے جرم سے نفع حاصل کر رہا ہے اور اگر جرم نہیں…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.