Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوٰۃ لینے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 3380-WAT
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک امام مستحق زکوۃ ہے تو کیا اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ؟ اور اگر وہ سامنے سے خود ز کوۃ کا سوال کرے تو کیا اسے زکوۃ دینا درست ہو گا اور اس صورت میں اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں شرعاً کوئی خرابی ہو گی یا نہیں ؟ اس بارے میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔
Answer (beginning)
ایسا امام جو مستحق زکوۃ ہو یعنی شرعی فقیر ہو ( کہ ضرورت سے زائد نصاب کے برابر مال کا مالک نہ ہو ) اور سادات کرام و بنو ہاشم میں سے نہ ہو تو اسے بلاشبہ زکوۃ کی رقم دینا جائز ہے جبکہ تنخواہ میں نہ دی جائے بلکہ علیحدہ سے دی جائے، اس سے اس کی امامت پر کوئی حرج نہیں آئے گا۔ البتہ از کوق مانگنے کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ جس کے پاس اپنی ضروریاتِ شرعیہ کو پورا کرنے کی مقدار مال موجود ہو یا اتنامال تو نہ ہو، لیکن کما کر ضروریات پوری کر سکتا ہو ، تو ایسے شخص کا سوال کرنا حرام ہے لہذا بیان کردہ صورت میں اگر امام کے پاس ضروریات کے مطابق نہ مال ہے اور نہ ہی اتنا کمانے پر قادر ہے تب تو اسے اپنی ضرورت کے…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.