Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیع فاسد کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کا حکم
- Fatwa no.
- 3375-WAT
- Issued
- 16 جمادی الاخرى 1446ھ / 19 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ایک بندے نے بیع فاسد کے طور پر پلاٹ سیل کیا۔ خریدار نے اسے آگے صحیح اور کامل طور پر (بغیر کسی خیار کے) سیل کر دیا۔ اس صورت میں جس نے پلاٹ بیچا یعنی بائع ، اس کی رقم کیسی ہے ؟ کیا وہ آگے اس رقم سے کاروبار کر سکتا ہے؟
Answer (beginning)
فاسد طریقے سے پلاٹ سیل کرنا اور اس کا خریدنا، دونوں ناجائز کام ہیں اور اس کے بعد دونوں پر لازم تھا کہ وہ اس کو فتح کرتے لیکن فسح کرنے سے پہلے ہی خریدار نے آگے سیل کر دیا تواب پہلا عقد ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن فاسد خریداری کرنے اور فسخ نہ کرنے کے گناہ سے تو بہ لازم ہے، اور اب اس کا حکم یہ ہے کہ قبضہ کرنے کے وقت جو اس پلاٹ کی مارکیٹ ویلیو تھی، صرف اتنی رقم پہلے بیچنے والے کو ملے گی، اگر اس سے زائد رقم کی ہوئی تھی تو وہ واپس کرے اور اس سے کم تھی تو خریدار سے وصول کرلے اور یہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق جو اس کی رقم اسے ملی وہ اس کو کسی بھی جائز مقام پر خرچ کر سکتا ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.