Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حضرت عائشہ صدیقہ پر تہمت لگانے والے کا حکم
- Fatwa no.
- 3373-WAT
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) میر اسوال یہ ہے کہ جو بد بخت معاذ اللہ صراحۃ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کا انکار کرے اس پر کیا حکم ہو گا؟
Answer (beginning)
جو بد بخت معاذ اللہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کا انکار کرے، تو وہ شخص کافر و مرتد ہے، کیونکہ ان کی پاکدامنی دلیل قطعی سے ثابت ہے۔ ایسے شخص پر تو بہ اور تجدید ایمان لازم ہے، اگر شادی شدہ تھا اور عورت کو رکھنا چاہے تو عورت کی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہو گا۔ چنانچہ اللہ تعالی قرآن مجید میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی پاکدامنی کے متعلق ارشاد فرماتا ہے : ان الَّذِينَ جَاءُ وَ بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ لَا تَحْسَبُوهُ شَمَّ الكُمْ ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ لِكُلِّ امْرِيَّ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْإِثْمِ وَالَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ عَذَابٌ عَظِيمٌ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.