Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر پڑھنے کے بعد عشاء کے فرضوں کا فاسد ہونا معلوم ہوا تو حکم

Fatwa no.
3371-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) بہار شریعت میں لکھا ہے کہ: "عشاء اور وتر کی نماز میں ترتیب فرض ہے ، تو اگر کسی نے پہلے وتر کی نماز پڑھ لی اور پھر عشاء کے فرض پڑھے ، تو اس کے وتر ہوں گے ہی نہیں۔" اس پر سوال یہ تھا کہ گزشتہ دنوں ہمارے یہاں عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھائی گئی، بعد میں سب کو شک ہوا کہ جماعت چار رکعت نہیں بلکہ تین رکعت ادا ہوئی ہے، تو یہ بات وتر پڑھنے کے بعد معلوم ہوئی، پہلے شک کرتے تھے ،لیکن توجہ نہیں گئی، جب امام سے پوچھا گیا کہ حضور نماز تین رکعت ہوئی یا چار رکعت، تو کہتے ہیں کہ مجھے بھی اس بارے میں شک ہے۔ تو اگر وتر پڑھنے کے بعد معلوم ہو کہ جماعت تین رکعت ہوتی ہے ، تو اب فرض کا اعادہ کرنا پڑے گا، تو اب سوال یہ ہے کہ جو وتر پڑھ لیے تھے، وہ ہو گئے یاد ہر انے پڑیں گے ، حوالے کے ساتھ جواب مطلوب ہے۔ ،

Answer (beginning)

نماز عشاء اور وتر کے در میان ترتیب فرض ہے اور اگر کوئی جان بوجھ کر بلا عذر شرعی نماز عشاء سے پہلے وتر پڑھ لے تو نماز وتر ہو گی ہی نہیں، ہاں اگر کوئی شخص بھول کر نماز عشاء سے پہلے وتر پڑھ لے یا عشاء پڑھنے کے بعد وتر پڑھ لیے اور اس کے بعد نماز عشاء کا فساد ظاہر ہوا ( جیسا کہ سوال میں ہے، تو اس صورت میں صرف نماز عشاء کا اعادہ کیا جائے گا، نماز وتر ہو جائے گی۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر وتر پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ نماز عشاء کی تین رکعات پڑھی گئی ہیں ، تو اس صورت میں نماز وتر کا اعادہ نہیں کیا جائے گا بلکہ نماز عشاء کا ہی اعادہ کیا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.