Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں سجدہ سہو بھولے سے رہ جائے تو نماز کا حکم

Fatwa no.
3369-WAT
Issued
11 جمادی الاخرى 1446ھ / 14 دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر فرض چار رکعات میں سجدہ سہو واجب ہوا اور ادا کرنا بھول گیا اور سلام پھیر کر نماز مکمل کر لی۔ اس کے بعد سنتیں بھی ادا کر لیں تو کیا فرض نماز دوبارہ ادا کرنا ہو گی ؟

Answer (beginning)

جی ہاں ! صورت مسئولہ میں فرض نماز کو دوبارہ ادا کر نالازم ہے کہ جب سجدہ سہو کیے بغیر بھول کر سلام پھیر دیا جائے اور پھر انگلی نماز شروع کر لی جائے یا اس کے علاوہ کوئی اور منافی نماز کام ( یعنی وہ عمل جو نماز پر بناء سے مانع ہو جیسے گفتگو کرناوغیرہ) کر لیا جائے تو اب پچھلی نماز ختم ہو جاتی ہے ، اور اس صورت میں اس کی کمی کی تلافی کے لیے اسے دوبارہ ادا کر ناضروری ہوتا ہے۔ بھول کر سلام پھیر دینے سے سجدہ سہو ساقط نہیں ہو تا بلکہ منافی نماز کام سے پہلے یاد آجائے تو کرنا ہو گا، چنانچہ نماز کے منافی کاموں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے رد المحتار میں ہے: ” السجود لا يسقط بالسلام.....

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.