Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

میاں، بیوی میں سے ایک نماز میں ہو تو دوسرے کا اسے بوسہ دینا

Fatwa no.
3368-WAT

Question

(دعوت اسلامی) اگر بیوی نماز پڑھ رہی ہو اور خاوند بوسہ لے، اس سے نماز ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں اور اگر شوہر نماز میں ہو اور بیوی بوسہ لے تو کیا حکم ہے؟ کیا ان دونوں مسئلوں میں کوئی فرق ہے؟

Answer (beginning)

بیوی نماز پڑھ رہی ہو اور شوہر اس کا بوسہ لے لے تو اس سے عورت کی نماز ٹوٹ جاتی ہے ، اور اگر شوہر نماز پڑھ رہا ہو اور اس حالت میں بیوی شوہر کا بوسہ لے لے، تو اگر مرد کو شہوت نہ ہو تو اس کی نماز نہیں ٹوٹتی ، یہ ان دونوں مسئلوں میں فرق ہے۔ اور اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ اصل میں جماع مرد کا فعل ہے ، تو جس طرح مرد کے عورت کے ساتھ جماع کرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اسی طرح اگر وہ ایسے افعال کرے جو جماع کے معنی میں ہیں یعنی بوسہ لینا وغیرہ تو معنوی اعتبار سے جماع پائے جانے کی وجہ سے نماز ٹوٹنے کا حکم ہوتا ہے ، اس کے بر خلاف جب عورت مرد کا بوسہ لے تو جب تک مرد کو شہوت نہ ہو نماز ٹوٹنے کا حکم نہیں، کیونکہ جماع…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.