Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
انتقال کرجانے والے رشتہ دار کا سامان استعمال کرنا
- Fatwa no.
- 3366-WAT
- Issued
- 09 جمادی الاخرى 1446ھ / 12 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) رشتے دار کا انتقال ہو گیا تھا، تو کیا ان کا سامان، کپڑے اور پر فیوم وغیر ہ استعمال کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جب کوئی شخص انتقال کرتا ہے تو اس کی ملکیت کی تمام چیزیں (خواہ وہ جائیداد منقولہ ، کرنسی، سامان، کپڑے، برتن، پرفیوم وغیرہ ہوں یا غیر منقولہ ، مکان، زمین وغیرہ سب وراثت بن جاتی ہیں، جن سے سب سے پہلے میت کے کفن ، دفن کے معاملات کرنا اور پھر اس کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادائیگی کرنا اور پھر اگر اس نے کوئی جائز وصیت کر رکھی ہو تو شرعی حد میں رہتے ہوئے ، اس وصیت کو پورا کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد جو کچھ بچے وہ ور ثا میں تقسیم ہوتا ہے کہ یہ اب ان کی ہی ملکیت ہے، لہذا سوال میں ذکر کی گئی چیزوں کو کوئی غیر وارث ، ورثاء کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک وارث ، دوسرے ورثا کی اجازت کے بغیر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.