Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عدت میں علم دین سیکھنے کے لئے گھر سے نکلنا

Fatwa no.
3362-WAT
Issued
10 جمادی الاخرى 1446ھ / 13 دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا طلاق کی عدت میں عورت علم دین پڑھنے جاسکتی ہے؟

Answer (beginning)

عند الشرع جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے یا اسے طلاق ہو جائے تو اس پر واجب ہوتا ہے کہ اپنی عدت حتی الا مکان شوہر کے گھر ہی میں گزارے یعنی اس گھر میں گزارے جو اسے شوہر کی طرف سے بطور رہائش ملا ہوا تھا۔ دوران عدت بلاضرورت شرعیہ اس گھر سے نکلنانا جائز و گناہ ہوتا ہے۔ البتہ اگر کوئی شدید حاجت یا حرج در پیش ہو کہ جس کی وجہ سے عورت کے لیے شوہر کے گھر سے نکلنا ضروری ہو جائے تو عدت کے دوران بقدر ضرورت اس گھر سے نکلنا جائز ہو جاتا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.