Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا مچھلی کی بیٹ سے پانی ناپاک ہو جاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 3356-WAT
- Issued
- 08 جمادی الاخرى 1446ھ / 11 دسمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض مساجد میں وضو کرنے کے لئے بڑے حوض بنے ہوتے ہیں، جن میں بعض اوقات چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی ہوتی ہیں کیا ان کی بیٹ کی وجہ سے پانی نجس ہو گا یا نہیں اور وضو کر سکتے ہیں؟
Answer (beginning)
مچھلیوں کی بیٹ سے وہ پانی نجس نہیں ہو گا، لہذا اس سے وضو کرنا جائز ہے کہ مچھلی کی بیٹ پاک ہے۔ النتف في الفتاوی میں علامہ ابوالحسن علی بن حسین سغدی حنفی علیہ الرحمہ (متوفی 461ھ) فرماتے ہیں: ” دواب الْبَحْرِ فَهِيَ وَمَا يتحلب مِنْهَا من شَيْء فَغير نجس وغير منجس لشيء من الاشياء والتنزه عنها افضل في قول ابي عبد الله “ ترجمہ : پانی کے جانور اور جو چیز ان کے جسم سے نکلے وہ نہ تو نجس ہے اور نہ ہی پانی وغیرہ کسی چیز کو نجس کرنے والی ہے ، ہاں ! اس سے بچنا بہتر ہے ابو عبد اللہ کے فرمان مطابق۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.