Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عیینہ نام کا مطلب اورعیینہ نام رکھنا کیسا؟
- Fatwa no.
- 3360-WAT
- Issued
- 10 جمادی الاخرى 1446ھ / 13 دسمبر 2024 ء
Question
کیا بچے کا نام عیینہ رکھ سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
جی ہاں! بچے کا نام عیینہ رکھ سکتے ہیں کہ یہ صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے ، اور حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب موجود ہے اور اس سے امید ہے کہ اچھوں کی برکت بچے کے شامل حال رہے گی۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے ”عبينة بن عائشة المزي : ذكره ابن ماكولا، ونقل عن ابن معدان أنّ له صحبة “ یعنی حضرت ابن معد ان سے حضرت عیینہ بن عائشہ رضی اللہ عنہ کے متعلق منقول ہے کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت نصیب ہے۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابة، جلد4، صفحه 641، دار الكتب العلمية، بيروت) الفردوس بماثور الخطاب میں ہے : ” تسموا بخیار کم “ ترجمہ : اچھوں کے نام پر نام رکھو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.