Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بھول کر دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم
- Fatwa no.
- 3359-WAT
- Issued
- 10 جمادی الاخرى 1446ھ / 13 دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو سجدہ سہو کر کے التحیات پڑھنا شروع کر دے اور بھول جائے کہ اس نے سجدہ سہو کر لیا ہے ، اس لیے دوبارہ سجدہ سہو کر لے اور پھر بعد میں یاد آئے کہ وہ تو سجدہ سہو کر چکا تھا، تو ایسی صورت میں کیا حکم شرعی ہو گا ؟
Answer (beginning)
مذکورہ صورت میں بھولے سے دوبارہ سجدہ سہو کرنے سے نماز پر کوئی فرق نہیں پڑا کہ یہ جو اس نے دوبارہ سجدہ سہو کرنے کے لیے سلام پھیر ہے ، یہ در حقیقت خروج بصنعہ والا سلام ہے۔ ہاں اگر یہ امام ہے ، تو جو مقتدی مسبوق تھا یعنی بعض رکعات اس نے نہیں پائی تھیں، وہ اگر اس زائد سجدے میں اس کا شریک ہوا تو اس کی نماز جاتی رہی ،وہ اپنی نماز کو دوبارہ ادا کرے گا۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمتہ الرحمن سے سوال ہوا کہ : " جس نماز میں سہو نہ ہوا اور سجدہ سہو کیا تو نماز جائز ہے یا نہیں ؟
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.