Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

موزوں پر مسح جائز ہونے کے لئے وضو کے فوراً بعد موزے پہننے کا حکم

Fatwa no.
3354-WAT
Issued
03 جمادی الاخرى 1446ھ / 06دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ہم بسا اوقات وضو کے فورا بعد چمڑے کے ایسے موزے پہنتے ہیں ، کا ، جن پر مسح کرنے کی مکمل شرائط پائی جاتی ہیں، اور بسا اوقات وضو مکمل کرنے کے کچھ دیر بعد ، ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد موزے پہنتے ہیں، میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا وضو کرنے کے فوراًبعد موزے پہناضروری ہے یادس ، پندرہ منٹ چھوڑ کر اس کے بعد پہن سکتے ہیں، کیا اس طرح درست ہو گا یا دوبارہ وضو کرنا ہو گا ؟

Answer (beginning)

وضو کے فوراً بعد موزے پہنا لازم نہیں۔ البتہ ! یہ ضرور ہے کہ وضو کرنے کے بعد اور موزے پہنے سے پہلے وضو کو توڑنے والی کوئی چیز نہ پائی گئی ہو ورنہ موزوں پر مسح کرنے کے لئے پہلا وضو کافی نہ ہو گا۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: ”منھا : ان يكون الحدث بعد اللبس طارئاً على طهارة كاملة كملت قبل اللبس او بعده هكذا في المحيط حتى لو غسل رجليه اولا ثم لبس خفیه او غسل احدى رجليه و لبس الخف عليها ثم غسل الرجل الاخرى ولبس الخف عليها ثم اكمل الطهارة قبل الحدث جاز هکذا فی فتاوی قاضیخان ولو غسل رجليه ولبس خفيه ثم احدث قبل الاكمال لم يجز المسح کذافی الکافی “ ترجمہ : اس کی شرائط میں سے یہ ہے کہ موزے پہنے کے بعد کامل طہارت…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.