Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بھانجے کا بیٹاخالہ کےلیے محرم ہوتا ہے

Fatwa no.
3351-WAT
Issued
03 جمادی الاخرى 1446ھ / 06دسمبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) بھانجے کا بیٹا خالہ کے لیے محرم ہوتا ہے یا غیر محرم؟

Answer (beginning)

بھانجے کا بیٹا خالہ کے لیے محرم ہوتا ہے، خالہ کا اس سے نکاح حرام ہے اور اس سے پر دہ نہیں ہے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: " جیسے بھتیجی بھانجھی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد، اور اولاد اولا د کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں، بنات ہو تیوں نواسیوں دور تک کے سلسلے سب کو شامل ہے، جس طرح فرمایا گیا: حرمت علیکم امھتکم و بنتکم تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.