Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قضا نمازوں اور روزوں کے فدیہ دینے کی وصیت کا حکم

Fatwa no.
3344-WAT
Issued
06 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 09دسمبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی نے قضا نمازوں اور قضا روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو ، تو کیا پہلے اس کے تہائی مال سے اس کی وصیت کو پورا کیا جائے گا؟

Answer (beginning)

میت کے مال سے سب سے پہلے میت کے کفن دفن کے معاملات کرنا اور پھر اس کے ذمہ قرض ہو تو اس کی ادا ئیگی کرنا اور پھر اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو شرعی حد میں رہتے ہوئے اس وصیت کو پورا کرنا ہوتا ہے اور اس کے بعد جو بچے وہ ور تا میں تقسیم ہوتا ہے۔ لہذا کفن دفن کے معاملات کرنے اور قرض ہو تو اس کی ادائیگی کرنے کے بعد ، صورت مسئولہ میں بیان کردہ وصیت کو تہائی مال سے پورا کیا جائے گا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.