Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نااہل کو علم سکھانے کی روایت: اس میں نااہل سے کون مراد ہے؟
- Issued
- 04 جمادی الاخریٰ 1446ھ / 07دسمبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) حدیث پاک میں ہے کہ نااہل کو علم سکھانا خنزیر کے گلے میں سونے کا ہار ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس حدیث میں نااہل سے کون مراد ہے؟
Answer (beginning)
حدیث پاک میں نااہل کو علم سکھانے سے یا تو یہ مراد ہے کہ علم کی باتیں ایسے شخص کو بیان کرنا، جو سمجھنے سے قاصر ہو مثلا عوام کے سامنے دقیق و باریک مسائل اور گہرے علمی نکات بیان کرنا، جنہیں وہ نہ سمجھ سکیں۔ تو اب مطلب ہو گا کہ : " وہ عالم جو عوام کے سامنے غیر ضروری اور باریک و پیچیدہ مسائل یا قابل شرح آیات و احادیث (بغیر شرح کیسے ) پیش کرے، وہ ایسا ہی بے وقوف ہے جیسے موتیوں کا ہار خنزیر کو پہنانے والا کہ جہلاء ایسی چیزیں سن کر انکار کر بیٹھتے ہیں۔ " یا پھر یہ مراد ہے کہ ایسے کو علم سکھانا، جس کا علم سیکھنے سے کوئی دینی مقصد نہ ہو بلکہ وہ کسی دنیوی غرض کے لئے علم سیکھتا ہو۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.