Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نابالغ میت کو تلقین کرنا

Fatwa no.
3333-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) مفتی صاحب کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ تدفین کے بعد جو تلقین کی جاتی ہے تو کیانا بالغ میت کو بھی تلقین کرنی چاہیے ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

Answer (beginning)

میت نابالغ ہو تو اسے تلقین کرنے کی حاجت نہیں، کیونکہ تلقین اسے کی جاتی ہے جس سے قبر میں سوالات کیے جاتے ہوں اور اصح قول کے مطابق نابالغ سے قبر میں سوالات نہیں کئے جاتے۔ چنانچہ نہر الفائق میں ہے: ” ومن لم يسأل ينبغي أن لا يلقن، وقد اختلف في الصبي فجزم المصنف في (العمدة) بأنه يسأل، والأصح : أنه لا يسأل، وكذلك النبي ، وخص ذلك في (المسايرة) لابن الهمام بأطفال المؤمنين، فقال: الأصح : أن الأنبياء لا يسألون ولا أطفال المؤمنین “ ترجمہ : جس سے قبر میں سوالات نہ کیے جائیں، اسے تلقین نہیں کرنی چاہیے اور تحقیق بچے کے بارے میں اختلاف ہے، مصنف نے ”العمدة “ میں اس بات پر جزم فرمایا ہے کہ بچے سے قبر میں…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.