Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

نماز میں پاؤں کی انگلیاں چٹخانے کا حکم

Fatwa no.
3329-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) نماز کے دوران یا نماز کے انتظار میں انگلیاں چٹخانا مکروہ تحریمی ہے۔ اگر کوئی دوران نماز قصد اگھٹنوں کو یا پاؤں کی انگلیوں کو چٹخائے جس سے آواز پیدا ہو تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو گا ؟ نیز اگر بلا قصد ایسا ہو تو کیا نماز میں فرق آئے گا؟

Answer (beginning)

جس طرح نماز کے دوران یا نماز کے انتظار میں ہاتھوں کی انگلیاں چٹھانا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے، یو نہی قصد اپاؤں کی انگلیاں چٹخانا، اور گھٹنے کو چٹھا کر اس سے آواز نکالنا بھی مکروہ تحریمی اور گناہ ہے اور ان دونوں افعال سے نماز واجب الاعادہ ہو جائے گی کیونکہ حدیث پاک میں نماز کے دوران عبث ( فضول و بے کار) عمل کو مکر وہ قرار دیا ہے، اور نماز کے دوران اعضا کو چٹانا بھی عبث میں سے ہے۔ البتہ اگر نمازی کے اختیار کے بغیر خود ہی قیام و قعود کی طرف جاتے ہوئے کسی عضو سے چٹخنے کی آواز پید اہو جائے تو یہ مکروہ نہیں ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.