Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

چھینک آنے پر کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے؟

Fatwa no.
3327-WAT

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میرا ایک سوال ہے کہ لوگ کہتے ہیں اگر ہمیں چھینک آئے تو یہ ہمیں کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے کیا یہ بات درست ہے

Answer (beginning)

عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو ہمیں کوئی یاد کر رہا ہوتا ہے۔ قرآن وسنت میں اس کی کوئی اصل نہیں ہے اور نہ ہی اقوال علماء و صوفیاء سے اس کی کوئی صراحت دستیاب ہوئی۔ بظاہر یہ ایسی باتوں میں سے ہے جو بغیر نقل وسند لوگوں کی زبانوں پر مشہور ہو جاتی ہیں۔ ہاں چھینک اگر چہ ایک طبعی عمل ہے تاہم یہ ان چیزوں میں سے ہے جو اللہ تبارک و تعالی کو پسند ہیں اور کسی بات کے وقت چھینک آجانا اچھی چیز ہے کہ حدیث میں اسے شاہد عدل (سچا گواہ) قرار دیا گیا ہے کہ کوئی بات بیان کی جاتی ہو اور اس کا جھوٹ و سچ ہونا معلوم نہ ہو اور چھینک آجائے تو اس کے سچا ہونے کی دلیل ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.