Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جہری نماز میں ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے قراءت کرنا کیسا؟

Fatwa no.
3326-WAT
Issued
26 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 29 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ضرورت سے اونچی قراءت کرنا مکروہ ہے۔ کیا یہ مکروہ تحریمی ہے ؟ اور نماز میں ایسا ہوا جیسے جہری قراءت میں امام نے بہت اونچی قراءت کی، تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہو گی یا نہیں ؟

Answer (beginning)

ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے قراءت کر نامکروہ تحریمی نہیں ہے ، لہذا اگر امام نے مقتدیوں کی تعداد سے زیادہ اونچی آواز سے قراءت کی، تو کراہت تحریمی و اعادے وغیرہ کا حکم نہیں ہو گا، البتہ ! مستحب یہ ہے کہ حاجت کے مطابق آواز بلند کرے، بلاوجہ حاجت سے زائد آواز کا بلند کرنا اچھا نہیں ہے۔ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے : " والأولى ان لا يجهد نفسه بالجهر بل بقدر الطاقة لأن إسماع بعض القوم يكفي بحر ونهر والمستحب أن يجهر بحسب الجماعة فإن زاد فوق حاجة الجماعة فقد أساء كمالوجهر المصلي بالأذكار قهستاني عن كشف الأصول “ ترجمہ : اولی (بہتر ) یہ ہے کہ امام اونچی آواز سے قراءت کرنے میں اپنے آپ پر مشقت نہ…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.