Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا وتر کا اعادہ کرتے وقت مزید ایک رکعت ملانا ضروری ہے؟

Fatwa no.
3319-WAT
Issued
24 جمادی الاولی 1446ھ / 27 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص احتیاطا ساری زندگی کی نمازیں دوبارہ پڑھنا چاہتا ہو اور اس کی ساری نمازیں صحیح تھیں تو اس حوالے سے جو یہ کہا گیا کہ جب وتر پر ھے تو ایک رکعت اور ملالے کہ چار ہو جائیں اس کی کیا وجہ ہے؟

Answer (beginning)

ان رکعات کے متعلق کنفرم نہیں کہ یہ نوافل ہیں یاوتر، کیونکہ یہ بھی احتمال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس کے ذمہ کوئی و تر باقی ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ وتر ذمے پر نہ ہوں تو یہ نوافل ہوں، اس لیے دونوں کی رعایت کرتے ہوئے ادائیگی کا حکم دیا گیا کہ اگر یہ واقعہ وتر ہوئے تو تیسری رکعت پر قعدہ کر کے اس نے تین وتر جس طرح ادا کرنے چاہیں تھے ، وہ ادا کر لیے۔ اور اگر یہ واقعہ نوافل تھے تو چار رکعات ادا کر لیں، اور نوافل جفت ہی ہوتے ہیں۔ اور تیسری پر قعدہ کرنے سے چار رکعات ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.