Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
شوہر مہر ادا کئے بغیر فوت ہوگیا، تو مہرکی ادائیگی کاطریقہ
- Fatwa no.
- 3313-WAT
- Issued
- 13 جمادی الاولی 1446ھ / 16 نومبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) شوہر کا انتقال بغیر مہر ادا کیے ہو جائے، تو کیا اُن کا مہر ، اُن کے بیٹے ادا کر سکتے ہیں ؟
Answer (beginning)
شوہر نے اگر بیوی کا حق مہر ادا نہیں کیا اور بیوی نے معاف بھی نہیں کیا، پھر شوہر کا انتقال ہو گیا، تو یہ مہر کی رقم شوہر پر قرض ہے اور حکم شرعی یہ ہے کہ کسی کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم کرنے سے پہلے اس کی تمام جائیدادو چھوڑے ہوئے مال سے اس کے ذمے لازم تمام قرضہ جات (جن میں بیوی کا حق مہر بھی شامل ہے)، ادا کیے جائیں گے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں بھی اگر بیوی نے اپنا حق مہر معاف نہ کیا، تو شوہر کے چھوڑے ہوئے مال میں سے مہر (اور اس کے علاوہ دیگر قرضہ ہونے کی صورت میں، وہ قرضہ بھی ادا کیا جائے گا اور پھر یہ رقم نکالنے کے بعد وراثت تقسیم ہو گی ، اور بیوی کو مہر کے علاوہ ، وراثت میں سے جتنا اس کا حصہ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.