Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت احرام میں محرم کا دوسرے محرم کے بال کاٹنا؟
- Fatwa no.
- 3308-WAT
- Issued
- 11 جمادی الاولی 1446ھ /14 نومبر 2024ء
Question
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عمرہ کے بعد احرام سے نکلنے کے لئے شوہر اپنی بیوی کے بال کاٹ سکتا ہے؟
Answer (beginning)
اگر میاں بیوی دونوں احرام باندھے ہوئے تھے تو اگر دونوں کے احرام کھلنے کا وقت ہے یا شوہر پہلے سے ہی احرام سے باہر ہے اور بیوی کے احرام کھلنے کا وقت آگیا ہے تو شوہر اپنی بیوی کے بال کاٹ سکتا ہے۔ اور اگر بیوی کے تو احرام کھلنے کا وقت آگیا لیکن شوہر کے احرام کھلنے کا وقت نہیں آیا تو ایسی صورت میں شوہر اس کے بال نہیں کاٹ سکتا۔ چنانچہ لباب و شرح لباب میں ہے ” (وإذا حلق) أى المحرم (رأسه) أى رأس نفسه (أو رأس غیرہ)۔۔۔ ( عند جواز التحلّل ) أى الخروج من الإحرام بأداء أفعال النسک۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.