Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سجدے میں نظر ناک پر رکھنے سے متعلق تفصیل

Issued
11 جمادی الاولی 1446ھ /14 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت دعوت اسلامی) کیا سجدے میں نظر ناک پر رکھنا ضروری ہے ؟ اور اگر نظر ناک پر نہ رکھی تو نماز کا کیا حکم ہے؟

Answer (beginning)

سجدے کی حالت میں نظر ناک پر رکھنا مستحب ہے کہ یہ فعل خشوع کے قریب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص سجدے کی حالت میں نظر ناک پر نہ رکھے تو اس سے نماز پر کچھ اثر نہیں پڑے گا۔ مجمع الا نھر میں ہے: " آداب الصلاة نظره الى موضع سجوده حال قیامه والی ظهر قدمیه حال رکوعه و الى ارنبة انفه حال سجوده لان المقصود الخضوع "ترجمہ : نماز کے آداب ( میں سے ) یہ ہے کہ نمازی اپنی نگاہ حالت قیام میں اپنے سجود کی جگہ کی طرف اور حالت رکوع میں اپنے دونوں قدموں کی طرف اور حالت سجود میں اپنی ناک کی ہڈی کی طرف رکھے کیونکہ مقصود خشوع و خضوع ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.