Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا حالت احرام میں جھگڑا کرنے پر کفارہ ہے؟
- Fatwa no.
- 3305-WAT
- Issued
- 27 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 30 نومبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت حالت احرام میں جھگڑا کرنے پر کیا کفارہ ہے؟ (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
گناہ کے کام اور لڑائی جھگڑا تو ہر جگہ ہی ممنوع ہے لیکن چونکہ حج و عمرہ بہت ہی عظیم اور مقدس عبادات ہیں، نیز حج و عمرہ کا سفر ادب، احترام، تعظیم ، بندگی، محبت، وارفتگی اور اطاعت کا سفر ہے، جس میں ہر قدم پر شرعی احکام کے زیور سے آراستہ رہنے کا حکم ہے، اسی لئے قرآن کریم میں اللہ پاک نے بطور خاص حاجی کو تاکید فرمائی کہ نہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ ہی کسی سے بھی دنیاوی معاملے میں جھگڑا کرے، اس لئے اس سفر کو گناہوں سے آلودہ کرنا اور لڑائی جھگڑا کر ناسخت معیوب اور نہایت نا پسندیدہ ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.