Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کیا عمرہ کسی نا محرم کے نام کر سکتے ہیں؟

Fatwa no.
3298-WAT
Issued
23 جمادی الاولی 1446ھ / 26 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا عمرہ کسی نا محرم کے نام کر سکتے ہیں ؟

Answer (beginning)

کسی کے نام کا عمرہ کرنایا عمرہ کر کے اس کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا شرعا جائز ہے، چاہے دوسرا محرم ہو یانا محرم کہ اصل میں یہ ایصال ثواب ہے اور کسی کو بھی اپنے نیک اعمال کا ثواب پہنچا سکتے ہیں۔ تنبیہ : یہ بات یادر ہے کہ کسی بھی نامحرم کے ساتھ رابطہ رکھنا، بے تکلفی سے باتیں کرنا، میل جول رکھنا ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، لہذا نا محرم کے نام کا عمرہ کرنے میں کسی ناجائز صورت کا ارتکاب کرنے کی اجازت نہیں۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.