Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
کیا کفریہ کلمہ منہ سے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
- Fatwa no.
- 3296-WAT
- Issued
- 23 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 26 نومبر 2024 ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ کیا کفریہ کلمہ منہ سے نکلنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
Answer (beginning)
کلمہ کفر منہ سے نکلا ( قصد ایا بے خیالی سے، بہر صورت) اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ البتہ ! اگر قصد اکلمہ کفر بکا تو اس سے تو بہ ، استغفار اور تجدید ایمان لازم ہے اور شادی شدہ تھا تو تجدید نکاح بھی لازم ہے اور اگر غلطی سے کلمہ کفر منہ سے نکلا تو اس سے توبہ واستغفار لازم ہے تجدید ایمان و نکاح لازم نہیں۔ المبسوط للسرخسی میں ہے ”والمتوضئ اذا ارتد۔ نعوذ بالله- ثم أسلم فھو علی وضوئه “ترجمہ : جس کا وضو تھاوہ مرتد ہو گیا۔ اللہ کی پناہ۔ پھر اسلام لے آیا تو وہ اپنے وضو پر باقی ہے۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.