Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نمازِ جمعہ کی ایک رکعت ملی تو بقیہ نمازادا کرنے کا طریقہ
- Fatwa no.
- 3288-WAT
- Issued
- 19 جمادی الثانی 1446ھ / 22دسمبر 2024 ء
Question
دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ جمعہ کی نماز میں اتنا تاخیر سے آیا کہ خطبہ اور ایک رکعت نماز نکل گئی تو اس کے بعد کس طرح ادا کریں؟
Answer (beginning)
اگر جمعہ کی نماز میں امام کے سلام پھیرنے سے پہلے جماعت میں شامل ہو گیا تو جمعہ ہو جائے گا۔ اگر دوسری رکعت میں رکوع میں یار کوع سے پہلے امام کے ساتھ مل گیا تو اب امام کے سلام پھیر نے کے بعد اپنی مزید ایک رکعت سورہ فاتحہ وسورت کے ساتھ ادا کرے اور رکوع سجو دو التحیات وغیرہ کے بعد سلام پھیر دے، جیسے عام نمازوں میں ہوتا ہے۔ اور اگر دوسری کے رکوع میں بھی امام سے نہ ملا ہاں سلام سے قبل شامل ہو گیا تو اب امام کے سلام کے بعد اپنی دو رکعتیں سورہ فاتحہ وسورت کے ساتھ ادا کرے، جس طرح عام نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.