Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

انتقال کے بعد جسم سے راڈ نکالنے کی شرعی حیثیت

Fatwa no.
3286-WAT
Issued
17 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 20 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کسی کی جسم کی ہڈی کے ٹوٹنے پر ، آپریشن کر کے اس کے جسم میں راڈ ڈالا گیا، تو اس کے انتقال کے بعد اسے نکالے بغیر نماز جنازہ ہو جائے گی یا نہیں؟

Answer (beginning)

راڈ کو سرجری کر کے ڈالا جاتا ہے اور اسے بغیر تکلیف کے نکالنا ممکن نہیں ہو تا۔ اس لیے وفات کے بعد راڈ کو جسم سے نہیں نکالا جائے گا کیونکہ اس سے میت کو اذیت ہو گی اور میت کو اذیت دینا منع ہے۔ اور اڈ نکالے بغیر نماز جنازہ بھی ہو جائے گی۔ یادر ہے کہ میت کے جسم کے ساتھ جو زائد چیز ایسی ہو کہ اس کو اتار نے، نکالنے میں میت کے لیے تکلیف نہ ہو تو اسے اتار اور نکال سکتے ہیں۔ جس چیز سے زندہ کو تکلیف پہنچتی ہے، اس سے مردہ کو بھی تکلیف پہنچتی ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.