Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

محتاج شخص کو قرض دینے کا حکم

Fatwa no.
3277-WAT
Issued
15 جمادی الاولی 1446ھ / 18 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) جو شخص مالدار ہو ، تو کیا اسے محتاج شخص کو قرض دینا چاہئے؟

Answer (beginning)

مسلمان کو بوقت حاجت قرض دینا مستحب عمل ہے کہ اس میں اس کی پریشانی دور کرنا ہے اور مسلمان کی پریشانی دور کرنا، بہت بڑی نیکی ہے۔ نیز خاص قرض دینے کے فضائل بھی حدیثوں میں بیان ہوئے ہیں۔ البتہ کسی کو قرض دینا، فرض یا واجب نہیں لہذا اگر کوئی شخص قرض نہیں دیتا تو وہ گناہ گار نہیں ہو گا۔ مسلمان کی پریشانی دور کرنے کے متعلق حدیث پاک میں ہے: ” عن سالم عن ابيه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: المسلم اخوالمسلم لا يظلمه ولا يسلمه، من كان في حاجة اخيه كان الله في حاجته و من فرج عن مسلم كربة فرج الله عنه بها كربة من كرب يوم القيامة ومن ستر مسلما ستره الله يوم القیامة “ترجمہ : حضرت سالم اپنے والد سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.