Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وقت کی تنگی میں تیمم سے پڑھی گئی نماز کا اعادہ کیوں لازم ہوتا ہے؟

Fatwa no.
3276-WAT
Issued
15 جمادی الاولی 1446ھ / 18 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) پانی نہ ملنے کی صورت میں یا بیماری کی وجہ سے پانی کے استعمال پر قادر نہ ہونے کی صورت میں تیم کر کے جو نمازیں پڑھی جائیں ان کا اعادہ نہیں ہوتا، جبکہ اگر وقت تنگ ہو اور وضو کرنے کی صورت میں نماز کے نکل جانے کا اندیشہ ہو تو ایسا شخص تیم کر کے نماز پڑھے گا لیکن بعد میں اعادہ بھی کرے گا، سوال یہ ہے کہ پہلی صورت اعادہ لازم نہ ہونے، جبکہ دوسری صورت میں اعادہ لازم ہونے کی کیا وجہ ہے؟

Answer (beginning)

اصول یہ ہے کہ جس عذر کی وجہ سے تیم کیا گیا ہے، اگر وہ عذر اللہ عزوجل کی طرف سے ہو ، بندے کا اس میں کچھ دخل نہ ہو تو ایسے عذر کے سبب تیم کر کے پڑھی جانے والی نماز کا اعادہ لازم نہیں ہو تا، جبکہ اگر وہ عذر بندے کی طرف سے ہو تو نماز کا اعادہ لازم ہوتا ہے۔ اب اس اصول کی روشنی میں دونوں صورتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت یعنی جو ایسی جگہ ہو کہ جہاں چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی نہ ہو اور پانی کے نہ ملنے کے سبب تیم کر کے نماز پڑھے، یاجو بیماری کے عذر کی وجہ سے وضو نہ کر سکے اور تمیم کر کے نماز پڑھ لے، تو چونکہ پانی کا نہ ملنا، یا بیماری کا عذر بندے کی طرف سے نہیں ، لہذا ان صورتوں میں تیم کر کے پڑھی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.