Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سورہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کی وجوہات

Fatwa no.
3275-WAT
Issued
15 جمادی الاولی 1446ھ / 18 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء ابلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سورہ تو بہ کے شروع میں

Answer (beginning)

سورہ تو بہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کے متعلق مختلف روایات بیان کی گئی ہیں، جن کی روشنی میں علمائے کرام نے اس کی حکمتیں بیان کی ہیں، جو درج ذیل ہیں: (1) ترمذی شریف میں ایک طویل حدیث پاک حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے منقول ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے سورہ تو بہ کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھنے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "كان إذا نزل عليه الشيء دعا بعض من كان يكتب فيقول: «ضعوا هؤلاء الآيات في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا» وإذا نزلت عليه الآية فيقول: «ضعوا هذه الآية في السورة التي يذكر فيها كذا وكذا»، وكانت الأنفال من أوائل مانزلت بالمدينة وكانت براءة من…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.