Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
’’ایمان کی قسم‘‘ کھانے کا کیا حکم ہے؟
- Fatwa no.
- 3268-WAT
- Issued
- 10 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 13 نومبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) ”ایمان کی قسم کھانے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ شرعاً جائز ہے، اور اگر کسی نے ایمان کی قسم کھائی تو یہ قسم ہو جائے گی یا نہیں ، اور اس کا کفارہ کیا ہو گا؟
Answer (beginning)
اللہ پاک کے نام اور صفات کے علاوہ، غیر خدا کی قسم کھانا، شرعانا جائز و گناہ ہے، چونکہ ”ایمان کی قسم “غیر خدا کی قسم ہے، لہذا ایمان کی قسم کھانا بھی جائز نہیں اور اس سے قسم نہیں ہو گی ، جیسا کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کسی نے " اللہ کے دین کی قسم کھائی، تو اس سے قسم نہیں ہو گی کیونکہ یہ غیر خدا کی قسم ہے ،لہذا ایمان کی قسم بھی شرعی قسم نہیں اور اس قسم پر کوئی کفارہ بھی لازم نہیں۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.