Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
عبیل نام رکھنا کیسا ہے؟
- Fatwa no.
- 3263-WAT
- Issued
- 08 جمادی الاولی 1446ھ / 11 نومبر 2024ء
Question
بچے کا نام عبیل رکھنا کیسا؟
Answer (beginning)
عبیل کا معنی " موٹا ہے ، یہ نام مناسب نہیں۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف " محمد "رکھیں، کیونکہ حدیث پاک میں "محمد " نام رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، پھر پکارنے کے لیے لڑکے کا نام انبیائے کرام عَلَيْهِمُ الصَّلوةُ وَالسَّلام کے اسمائے مبار کہ اور صحابہ کرام و تابعین عظام اور بزرگانِ دین رِضْوَانُ الله تعالى عَلَيْهِمْ أَجْمَعِین نیک لوگوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیجیے کہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ المنجد میں ہے: العبیل: موٹا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.