Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وتر میں دعائے قنوت کی جگہ سورہ فاتحہ یا سورہ اخلاص پڑھنے کا حکم

Fatwa no.
3253-WAT
Issued
02 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 05 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) وتر میں دعائے قنوت کی جگہ سورۃ الفاتحہ یا سورۃ الاخلاص پڑھ لینے سے وتر ہو جائیں گے یا دوبارہ پڑھنے ہوں گے ؟

Answer (beginning)

اگر کسی نے وتر میں دعائے قنوت کی جگہ دعا کی نیت سے سورۃ الفاتحہ یا سورۃ الاخلاص پڑھی، تو وتر ادا ہو جائیں گے اور دوبارہ پڑھنا لازم نہیں ہوں گے۔ اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جسے معروف (مشہور ) دعائے قنوت یاد نہ ہو ، اسے چاہیے کہ اس دعا کو یاد کرے کہ دعائے قنوت میں اس کا پڑھنا حدیث پاک سے ثابت ہے اور احادیث سے ثابت دعاؤں کا پڑھنا بہتر ہے۔ اور جب تک دعائے قنوت یاد نہ ہو ، تب تک کوئی اور دعا مثلا یہ قرآنی دعا اللهم ربنا اتنا فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار“ پڑھ لیا کرے اور اگر یہ بھی یاد نہ ہو ، تو تین بار "اللَّهُمَّ اغْفِرْلِی “ کہہ لے اور یہ بھی یاد نہ ہو ، تو تین بار صرف ” یارت “…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.