Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اخبار وغیرہ میں آیت سجدہ پڑھی تو کیا حکم ہے؟

Fatwa no.
3246-WAT
Issued
04 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 07 نومبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اخبار یار سائل وغیرہ میں آیت سجدہ ہو تو اس کو پڑھنے سے سجدہ تلاوت واجب ہو گا یا نہیں ؟

Answer (beginning)

66 وو اگر کوئی اخبار یار سالہ پڑھتے ہوئے آیت سجدہ تلاوت کرے اور کم از کم اتنی آواز سے تلاوت کرے کہ شور و غل یا اونچا سننے کا مرض نہ ہو تو اپنے کانوں تک آواز پہنچ سکتی ہو، تو ایسی صورت میں سجدہ تلاوت واجب ہو جائے گا۔ لیکن اگر کوئی آیت سجدہ لکھ دے اور زبان سے نہ پڑھے یا صرف دل میں پڑھ لے تو صرف لکھنے یادل میں پڑھنے سے سجدہِ تلاوت واجب نہیں ہو تا، کیونکہ وجوب کا سبب ” تلاوت“ ہے اور تلاوت زبان کا فعل ہے ، ہاتھ یا دل کا نہیں۔ سجدہ تلاوت کے وجوب کا سبب ” تلاوت“ ہے ، چنانچہ تنویر الابصار و در مختار “ میں ہے یجب بسبب تلاوة آیة۔ "ترجمہ : کسی آیت سجدہ کی تلاوت سے سجدہ تلاوت واجب ہو تا ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.