Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حق مہر کو صدقہ کرنا کیسا؟

Fatwa no.
3242-WAT
Issued
03 جمادی الاولیٰ 1446ھ / 06 نومبر 2024 ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر عورت کو حق مہر مل جائے اور پھر وہ اپنی طرف سے وہ صدقہ وغیرہ کرنا چاہے تو کر سکتی ہے یا نہیں؟

Answer (beginning)

حق مہر عورت کی ملکیت ہوتا ہے لہذا جب شوہر نے حق مہر ادا کر دیا تو عورت کو اختیار ہے کہ اس کا جو چاہے کرے، چاہے تو اسے صدقہ کر دے یا کسی کو تحفہ دے دے یا اپنے پاس رکھے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : وَأتُوا النِّسَاءَ صَدُقَتِهِنَّ نِحْلَةً فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِينا ترجمہ کنز الایمان: اور عورتوں کے ان کے مہر خوشی سے دو، پھر اگر وہ اپنے دل کی خوشی سے مہر میں سے تمہیں کچھ دے دیں، تو اسے کھاؤر چتا پچتا۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.