Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کاروبار کے لئے قرض دے کر کاروبار کا منافع لینا کیسا؟

Fatwa no.
3235-WAT
Issued
26 ربیع الثانی 1446ھ / 130اکتوبر 2024ء

Question

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) میں نے اپنے بھائی سے کچھ رقم کاروبار کے لیے بطور قرض لی ہے ، میں وہ رقم اپنے بھائی کو ویسے ہی ادا کروں گا جتنی لی ہے ، اس میں کوئی اضافی شرط معاذ اللہ نہیں لگائی، لیکن مفتی صاحب ہم نے آپس میں رضامندی سے طے کیا ہے کہ اس کاروبار سے جو نفع ہو گاوہ ہم آدھا آدھا کریں گے، کیا ایسا کرنادرست ہے؟

Answer (beginning)

بیان کر دہ صورت میں اگر چہ قرض کی رقم لوٹاتے وقت اضافی رقم دینا طے نہیں پایا، لیکن جب تک قرض رہے اس وقت تک اس رقم سے کیے جانے والے کاروبار کا آدھا نفع قرض دینے والے کو دینا، اور قرض کی رقم واپس ہو جانے پر نہ دینا (جیسا کہ عموما ہوتا ہے ) یہ قرض کی وجہ سے ہی ہے، اور قرض کی بنیاد پر کسی طرح کا نفع لینا، دینا سود ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ چنانچہ سید نا علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : كل قرض جرمنفعة فهوربا “ ترجمہ : ہر وہ قرض جو نفع لائے سود ہے۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.