Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
چوری کیا ہوا سامان واپس کرنے پر تاوان کا حکم؟
- Fatwa no.
- 3234-WAT
- Issued
- 26 ربیع الثانی 1446ھ / 130اکتوبر 2024ء
Question
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی) اگر کوئی شخص مسجد سے سامان چوری کرنے کے بعد واپس لے آتا ہے، تو شریعت کے مطابق اس پر تاوان ہو گا؟
Answer (beginning)
اگر کوئی شخص مسجد سے سامان چوری کرنے کے بعد بغیر کسی نقصان کے بعینہ وہ ہی سامان واپس لے آتا ہے ، تو اس پر تاوان تولازم نہیں ہو گا، البتہ اپنے اس گناہ پر اللہ کریم کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا اس پر لازم ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے: " وهل يضمن السرقة؟ إن كان استهلكها يضمن، وإن كانت قائمة ردها على المسروق منه " ترجمہ: اور کیا چوری کی گئی چیز کا تاوان دے گا؟ اگر تو اس نے وہ چیز ہلاک کر دی ہے تو اس کا تاوان دے گا اور اگر وہ چیز موجود ہو تو جس سے چوری کی ہے اسے واپس کر دے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.